ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ٹرمپ کا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ،فلسطینی مایوس

ٹرمپ کا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ،فلسطینی مایوس

Fri, 11 Nov 2016 15:25:35    S.O. News Service

بیت المقدس،10؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)فسلطینی صدر محمود عباس ان اولین عرب سربراہان میں سے ہیں جنہوں نے امریکی صدارتی انتخابات میں جیت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کی۔ تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک ریپبلکن امیدوار کی مدت صدارت کا فلسطینیوں کی توقعات پر گہرا منفی اثر ہوگا جب کہ اس جیت سے اسرائیلیوں کا اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔فلسطینی نیوز ایجنسی WAFA کے مطابق محمود عباس کو اس حوالے سے کچھ امید باقی ہے کہ ٹرمپ (جنہوں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے کسی واضح پروگرام کا اعلان نہیں کیا) مشرق وسطی کے حوالے سے نیا باب کھولیں گے۔انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیں گے۔ یہ اعلان مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اس وعدے کے نتیجے میں ٹرمپ کو اسرائیلیوں کی حمایت حاصل ہو گئی۔اگرچہ ماضی میں بہت سے امریکی صدارتی امیدوار اس طرح کا وعدہ کر چکے ہیں تاہم ٹرمپ ایسے سربراہ ہیں جو اس وعدے کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔ غالب گمان ہے کہ اس سلسلے میں انہیں امریکی کانگریس کی مکمل معاونت حاصل رہے گی جس پر ریپبلکنز کا کنٹرول ہے۔

اس اقدام پر عمل درامد کی صورت میں یہ بین الاقوامی معاہدوں کو منسوخ کر دے گا جن میں اس امر کو برقرار رکھا گیا ہے کہ بیت المقدس کی حتمی پوزیشن کا فیصلہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی ہوگا۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ بیت المقدس کا مشرقی حصہ ان کی ریاست کا دارالحکومت ہو اور اس ریاست میں غزہ پیٹی اور مغربی کنارہ بھی شامل ہو۔فلسطینیوں کی قومی امنگیں کم از کم دو وجوہات کی بنا پر اس وقت مشکل مرحلے سے دوچار ہیں۔ پہلی وجہ محمود عباس کی فتح تحریک اور حماس تنظیم کے درمیان عداوت اور انقسام ہے جس نے سیاسی وحدت کو پارہ پارہ کر ڈالا ہے۔ دوسری وجہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بستیوں کی تعمیر کا وسیع ہوتا دائرہ ہے جو فلسطینی ریاست کے لیے باقی ماندہ اراضی کو بھی دھیرے دھیرے نگل رہا ہے۔1967کی جنگ کے وقت سے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔اس وقت مغربی کنارے میں 3.5 لاکھ اور مشرقی بیت المقدس میں 2.5 لاکھ یہودی آباد کار رہتے ہیں۔ دوسری جانب مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد 28 لاکھ جب کہ مشرقی بیت المقدس میں 3 لاکھ ہے۔تجزیہ کاروں اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ ٹرمپ کی صدارت میں امریکا یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے حوالے سے اسرائیل پر کم دباؤ ڈالے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہودی آبادکاروں کی تعداد میں بلا روک ٹوک اضافہ ہوگا جس سے دو ریاستوں پر مشتمل حل مشکل تر ہوجائے گا۔

حماس تنظیم کے ترجمان سامی ابو زہری کا کہنا ہے کہ "فلسطینی عوام امریکی ایوان صدارت میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے تبدیلی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ یہ پالیسی ہمیشہ سے اسرائیلی قبضے کے لیے جانب داری پر قائم و دائم رہی ہے"۔غزہ میں فلسطینی تجزیہ کار عدنان ابو عامر کے مطابق " ٹرمپ کی جیت فلسطینی سیاست کے میدان کے حوالے سے بری شمار کی جا رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ فسلطینی اسرائیلی معاملے کو کمزور کر دیں اور دیگر معاملات مثلا شام ، ایران اور عراق کو متحرک کریں۔ اسرائیل یہ ہی چاہتا ہے اور فلسطینیوں کو بھی اسی کا اندیشہ ہے"۔ادھر فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدارتی انتخابات کے نتائج سے حیران ہوئے ہیں تاہم وہ مستقبل کی پیش رفت کا انتظار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ " اس نوعیت کے معاملات میں ہم قبل از وقت اندازہ نہیں لگانا چاہتے۔ ہمیں چاہیے کہ پہلے جیت کے خطاب کا جائزہ لیں اور پھر آئندہ اقدامات کو نظر میں رکھیں جو صورت حال کو زیادہ واضح کریں گے"۔


Share: